نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 284 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 284

۲۶۳ کرنے جارہے ہیں۔ان سفروں کے انتظامات کی نگرانی بالعموم حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے ذمہ تھی۔جنہوں نے اپنے حسن انتظام اور مومنانہ تدبر وفراست سے ان جلسوں میں شرکت کے لطف کو دوبالا کر دیا۔ان جلسوں میں حضور کی خواہش کے مطابق بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کرنے کے فریضہ کی ادائیگی کی سعادت پانے والے مبلغین کرام اپنی خدمات کا مختصر تذکرہ کرتے جس سے ثابت ہوتا کہ حضرت مصلح موعود کے ذریعہ قومیں برکت حاصل کر رہی ہیں اور دین اسلام کا شرف و مرتبہ ظاہر ہو رہا ہے۔اندرونی و بیرونی فتنوں کا مقابلہ حضور کے دور خلافت میں جماعت احمدیہ کے خلاف کئی فتنے ظاہر ہوئے ان میں سے بعض فتنے تو اتنے خطرناک تھے کہ جن کو دیکھ کر مخالف سمجھتا تھا کہ اب نعوذ باللہ احمدیت دنیا سے مٹ جائے گی مگر ہر فتنے کا حضور نے انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا اور پہلے سے یہ اعلان کر دیا کہ یہ فتنے ناکام ہو جائیں گے اور احمدیت کی کشتی خدا کے فضل سے آگے ہی آگے بڑھتی چلی جائے گی۔چنانچہ واقعی حضور کی پیشگوئی پوری ہوتی رہی۔ہر فتنہ نا کام ہوا اور سفینۃ الاحمدیہ اکناف عالم کے کناروں کو جانکرائی۔بعض فتنوں کا مختصر اذکر کر دیتا ہوں۔منکرین خلافت کا مقابلہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ سب سے پہلے حضور کو منکرین خلافت کے فتنے کا سامان کرنا پڑا جسے حضور نے ہر لحاظ سے ناکام بنا دیا۔کئی منافقین وقتاً فوقتاً جماعت سے نکل کر فتنہ پھیلاتے رہے۔مثلاً (الف ) ۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن مصری