نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 283
۲۶۲ اور یہی وہ آخری لڑائی ہوگی جو ظاہری لحاظ سے سیاسی وجوہ کی بناء پر لڑی جائے گی مگر وہ لڑائی ایسی ہوگی کہ خدا تعالیٰ دوسروں کو آگے کر کے مذہب کے لئے راستہ کھول دے گا“۔(الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۴۴ء) خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ حضور کی اس پیش خبری کے مطابق کمیونزم کے طوفان کا زور ٹوٹ چکا ہے اور مذہب کے لئے رستے کھل رہے ہیں۔تحدیث نعمت اہم مقامات پر جلسوں کا انعقاد: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تضرعات اور ابتہال کی قبولیت اور رحمت و قدرت اور قربت کے اس نشان کے اس شان سے پورا ہونے پر کہ جس سے دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہوا اور باطل اپنی نحوستوں کے ساتھ بھانگتا ہوا اور حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ جلوہ نما ہوتا ہوا نظر آنے لگا۔حضرت مصلح موعود نے بعد دعوئی مصلح موعود تحدیث نعمت، دعوت و تبلیغ اور اتمام حجت کی خاطر بعض اہم مقامات پر عام جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ فرمایا۔چنانچه ۲۰ فروری ۱۹۴۴ء کو ہشیار پور ۱۲ مارچ ۱۹۴۴ء کو لاہور ،۲۳ مارچ ۱۹۴۴ء کو لدھیانہ ۶ اراپریل ۱۹۴۴ء کو دہلی میں شاندار جلسے منعقد ہوئے۔ان جلسوں میں شرکت کے لئے حضور کی طرف سے خاص ہدایات جاری ہوتی تھیں۔جس کے مطابق جلسہ میں شریک ہونے والے خوش قسمت احمدی ذکر الہی اور دعاؤں کے خاص التزام کے ساتھ بڑے وقار اور بردباری سے صحیح اسلامی تعلیم و تربیت کا نقشہ پیش کرتے ہوئے اس طرح سفر کرتے کہ دیکھنے والے اس نظارہ سے اس قدر متاثر ہوتے تھے کہ ایک مشہور معاند احمدیت نے اپنے اخبار میں لکھا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ مکہ فتح