نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 271
خلافت جو بلی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ۱۹۱۴ء میں خلیفہ بنے تھے۔۱۹۳۹ء میں آپ کی کامیاب اور بابرکت خلافت کا ۲۵ برس کا عرصہ پورا ہو گیا۔حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جماعت میں یہ تحریک پیش کی کہ خلافت ثانیہ کے ۲۵ سال پورے ہونے پر جماعت کی طرف سے خوشی اور شکر الہی کے اظہار کے لئے لاکھ روپے کی رقم جمع کر کے ایک خاص تقریب میں حضور کی خدمت میں پیش کرے اور درخواست کرے کہ اس حقیر رقم کو حضور جس طرح چاہیں دین کی خدمت میں صرف فرمائیں۔چنانچہ دسمبر ۱۹۳۹ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ تقریب جو خلافت ثانیہ کی سلور جوبلی کہلاتی ہے منائی گئی اور تین لاکھ روپیہ جماعت نے حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے اعلان فرمایا کہ اس رقم کومختلف دینی ضروریات پر صرف کیا جائے گا۔جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ کا جلسہ سالانہ بھی اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے۔جلسہ سالانہ کی بنیاد حضرت مسیح موعود نے رکھی۔سب سے پہلا جلسہ ۱۸۹۱ء میں ہوا۔جس میں صرف ۷۵ افراد شریک ہوئے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں آخری جلسہ میں جو دسمبر ۱۹۰۷ء میں ہوا دو ہزار سے زائد افراد شامل ہوئے۔پھر حضرت خلیفہ اول کا زمانہ شروع ہوا۔آپ کے عہد خلافت کے آخری جلسہ میں جو۱۹۱۳ء میں ہوا جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد ہزار سے اوپر تھی۔خلافت ثانیہ میں یہ تعداد سرعت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔چنانچہ ۱۹۳۴ء میں اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد ۲۰ ہزار تھی۔ہجرت سے پہلے قادیان کے آخری جلسہ سالانہ میں جو دسمبر