نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 244
۲۲۳ ڈاکٹر عبدالحمید صاحب چغتائی لاہور کی چشم دید شہادت ہے کہ حضرت ایک مرتبہ چیف کورٹ پنجاب میں کسی گواہی کے سلسلہ میں تشریف لائے جب حضور کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو تین بج تعظیم کے لئے کھڑے ہو گئے۔آپ کے علمی فیض کا حلقہ بہت وسیع تھا اور آپ کے شاگردوں کی تعداد جنہوں نے آپ سے علوم پڑھے بیشمار ہے۔علوم دینیہ کے علاوہ آپ کا شمار چوٹی کے طبیبوں میں ہوتا تھا اور پورے ملک میں آپ کی دھوم مچی ہوئی تھی۔یہ بھی ایک روایت ہے کہ کوئی انگلستان میں بغرض علاج گیا تو ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ ہندوستان میں جا کر مولوی حکیم نورالدین صاحب سے علاج کروائیں۔ڈاکٹر عبدالحمید صاحب چغتائی (لاہور) کی روایت ہے کہ ” آپ کبھی لاہور تشریف لاتے تو آپ کے گرد ہندو مسلمان اور سکھ دور و نزدیک سے ہجوم کر کے آ جاتے بازار میں چلتے تو لوگ حضرت کے پاؤں پکڑ لیتے اور اپنے مریضوں کے لئے دوا طلب کرتے۔حضرت حکیم صاحب قبلہ نے ہزاروں روپیہ کی دوائیں اپنی جیب سے خرچ کر کے ضرورت مندوں میں مفت تقسیم کر دیں۔حضرت کے دل میں خدمت خلق کا بے پناہ جذبہ تھا۔نیز لکھتے ہیں ”حضرت حکیم صاحب ۱۹۱۳ء میں بیمار ہوئے تو جناب مسیح الملک حکیم حافظ اجمل خان صاحب دہلوی، حکیم عبدالعزیز خان صاحب لکھنوی، حکیم غلام حسین حسنین صاحب کشوری خود عیادت کے لئے قادیان تشریف لائے۔حکیم فقیر محمد صاحب چشتی، حکیم مولوی سلیم اللہ خان صاحب ، حکیم سید عالم شاہ صاحب، حکیم مفتی محمد انور صاحب ہاشمی ، حکیم فیروز الدین صاحب وغیرہ وغیرہ حضور کا نام بڑی عزت و احترام سے لیا کرتے تھے اور حضرت کو حضرت استاذی المکرم کہا کرتے تھے۔عبدالمجید صاحب سالک اپنی کتاب ” مسلم ثقافت ہندوستان میں“ کے