نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 243
۲۲۲ نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کی بزرگی اور علمیت و قابلیت کے دل سے قائل تھے۔ایک مرتبہ کسی نے سرسید مرحوم سے خط و کتابت کے دوران پوچھا کہ جاہل علم پڑھ کر عالم بنتا ہے اور عالم ترقی کر کے حکیم ہو جاتا ہے حکیم ترقی کرتے کرتے صوفی بن جاتا ہے مگر جب صوفی ترقی کرتا ہے تو کیا بنتا ہے؟ سرسید مرحوم نے جواب دیا کہ جب صوفی ترقی کرتا ہے تو نورالدین بنتا ہے۔مولانا عبید اللہ صاحب سندھی جو ولی اللہ فلسفہ کے داعی تھے محض حضرت خلیفہ اول سے ملاقات و استفادہ کے لئے قادیان تشریف لائے تھے اور حضور کے اسلوب تفسیر سے بہت متاثر ہوئے۔چنانچہ ان کی تفسیر میں اس کی گہری جھلک نظر آئی ہے اور احمدیت کے خیالات وافکار کا عکس بھی ان کی تفسیر سے دکھائی دیتا ہے۔ڈاکٹر محمد اقبال صاحب سے قانون شریعت کے مختلف مسائل سے راہنمائی کے سلسلہ میں خط و کتابت جاری رہتی تھی۔ایک مرتبہ ان کو اپنی ایک بیوی کے بارے میں شبہ ہوا کہ چونکہ وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کر چکے تھے مبادا شرعاً طلاق ہو چکی ہو۔جس پر انہوں نے مرزا جلال الدین صاحب کو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بھیجا کہ مسئلہ پوچھ آؤ۔آپ نے فرمایا کہ طلاق نہیں ہوئی لیکن اگر آپ کے دل میں کوئی شبہ اور وسوسہ ہو تو دوبارہ نکاح کر لیجئے۔چنانچہ ڈاکٹر اقبال نے اس فتویٰ کے مطابق دوبارہ اس خاتون سے نکاح پڑھوا لیا۔مولانامحمد علی جوہر، نواب وقار الملک،مولانا ابوالکلام آزاد ، مولوی ظفر علی خان ،علامہ شبلی نعمانی ، نواب محسن الملک ، مولوی عبدالحق صاحب حقانی مفسر دہلوی ، خواجہ حسن نظامی اور دوسرے مسلمہ مسلمان لیڈر آپ کی عظمت شان اور جلالت مرتبت اور تبحر علمی کے دل سے قائل تھے اور اسلامی رسائل میں آپ کی دینی رائے کو بڑی وقعت دی جاتی تھی۔