نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 196
۱۷۵ خلافت حضرت علی حضرت علی کا انتخاب جب حضرت عثمان کا واقعہ شہادت ہوا اور وہ صحابہ جو مدینہ میں موجود تھے انہوں نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں میں فتنہ بڑھتا جارہا ہے حضرت علی پر زور دیا کہ آپ لوگوں کی بیعت لیں۔دوسری طرف کچھ مفسدین بھاگ کر حضرت علی کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس وقت اسلامی حکومت کے ٹوٹ جانے کا سخت اندیشہ ہے آپ لوگوں سے بیعت لیں تا کہ ان کا خوف دور ہو اور امن و امان قائم ہو۔غرض جب آپ کو بیعت لینے پر مجبور کیا گیا تو کئی دفعہ کے انکار کے بعد آپ نے اس ذمہ داری کو اٹھایا اور لوگوں سے بیعت لینی شروع کر دی۔مختصر سوانح على حضرت علی آنحضرت کے سگے چچا حضرت ابوطالب کے بیٹے تھے۔آپ ہجرت سے اکتیس سال پہلے پیدا ہوئے۔آپ کا اصل نام علی اور کنیت ابولحسن اور ابوتراب تھی۔والدہ ماجدہ نے آپ کا نام حیدر رکھا۔جس کے معنی پھاڑنے والا شیر ہے۔امین، شریف، مرتضی، اسد اللہ اور امیر المومنین ان کے القابات ہیں۔خاندانی اعتبار سے آپ دونوں طرف سے ہاشمی ہیں۔آنحضرت کے چازاد بھائی ہونے کے علاوہ آپ کے داماد بھی تھے۔حضرت علی کو بچوں میں سب سے پہلے