نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 188
۱۶۷ اللهُ إِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِى اثْنَيْنِ إِذْهُمَا فِي الْغَارِ إِذْيَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَناه (توبه (۴۵) ترجمہ:۔اگر تم اس رسول کی مدد نہ کرو تو ( یا درکھو کہ اللہ اس کی اس وقت بھی مدد کر چکا ہے جبکہ انہیں کافروں نے دو میں سے ایک کی صورت میں نکال دیا تھا۔جبکہ وہ دونوں غار میں تھے وہ اپنے ساتھی (ابوبکر ) کو کہ رہا تھا کہ کسی گزشتہ بھول چوک پر غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔آپ کی بزرگی اور عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت کی وفات کے بعد آپ کو متفقہ طور پر خلیفۃ الرسول منتخب کیا گیا اور انصار اللہ اور مہاجرین آپ پر ایمان لائے۔آپ کی خلافت کا عرصہ تقریباً دو سال بنتا ہے۔اس عرصہ میں آپ کو امت مسلمہ کی تعلیم و تربیت کے علاوہ ان کی شیرازہ بندی اور ان میں وحدت قائم رکھنے کی توفیق ملی۔اور آنحضرت کی خلافت کے بعد فتنہ ارتداد اور جھوٹے مدعیان نبوت کی سرکوبی کی توفیق ملی۔منکرین زکوۃ سے زکوۃ کی وصولی کا ٹھوس نظام قائم کیا۔آپ نے رومیوں اور ایرانیوں کو شکست دے کر مسلم سلطنت میں وسعت پیدا کی۔آپ کے دیگر بہت سارے کارنامے ہیں طوالت کے خوف سے ان کی تفصیل میں جانا ممکن نہیں۔خلافت حضرت عمر حضرت عمر کا انتخاب حضرت ابو بکر کی وفات جب قریب آئی تو آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ میں کس کو خلیفہ مقرر کروں؟ اکثر صحابہ نے اپنی رائے حضرت عمر کی امارت کے متعلق ظاہر