نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 180 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 180

۱۵۹ بہت سے لوگوں کے خیالات سن کر کوئی اور مفید بات معلوم ہو سکے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ میں مشورہ لینے والا مخاطب ہے اگر فیصلہ مجلس شوری کا ہوتا تو یوں حکم ہوتا کہ فَإِذَا عَزَمُتُمْ فَتَوَكَّلُوا عَلَى اللَّهِ اگر تم سب لوگ ایک بات پر قائم ہو جاؤ تو اللہ پر توکل کر کے کام شروع کر دو۔مگر یہاں صرف اس مشورہ کرنے والے کو کہا کہ تو جس بات پر قائم ہو جائے اسے فَتَوَكَّلًا عَلَى اللَّهِ شروع کر دے۔دوسرے یہاں کسی کثرت رائے کا ذکر ہی نہیں بلکہ یہ کہا ہے کہ لوگوں سے مشورہ لے یہ نہیں کہا کہ ان کی کثرت دیکھ اور جس پر کثرت ہو اس کی مان لے یہ تو لوگ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔قرآن کریم میں کہیں نہیں کہ پھر ووٹ لئے جائیں اور جس طرف کثرت ہو اس رائے کے مطابق عمل کرے بلکہ یوں فرمایا ہے کہ لوگوں سے پوچھ مختلف مشوروں کو سن کر جس بات کا تو قصد کرے(عَزَمت کے معنی ہیں جس بات کا تو پختہ ارادہ کرے ) اس پر عمل کر اور کسی سے نہ ڈر بلکہ خدا تعالیٰ پر توکل کر۔شَاوِرُهُمْ کے لفظ پر غور کرو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ لینے والا ایک ہے دو بھی نہیں اور جن سے مشورہ لینا ہے وہ بہر حال تین یا تین سے زیادہ ہوں۔پھر وہ اس مشورہ پر غور کرے پھر حکم ہے فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ جس بات پر عزم کرے اس کو پورا کرے اور کسی کی پرواہ نہ کرے۔حضرت ابوبکر کے زمانہ میں اس عزم کی خوب نظیر ملتی ہے۔جب لوگ مرتد ہونے لگے تو مشورہ دیا گیا کہ آپ اس لشکر کو روک لیں جو اسامہ کے زیر کمانڈ جانے والا تھا مگر انہوں نے جواب دیا کہ جو لشکر آنحضرت ﷺ نے بھیجا ہے میں اسے واپس نہیں کر سکتا۔ابو قحافہ کے بیٹے کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔پھر بعض کو رکھ بھی لیا چنانچہ حضرت عمر بھی اسی لشکر میں جارہے تھے ان کو روک لیا گیا۔