نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 177
۱۵۶ اور ہر اہم معاملہ میں ان سے مشورہ کرو۔پس جب تو (کوئی) فیصلہ کرلے تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کر۔یقینا اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اسی طرح حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ:۔لَا خِلَافَةَ إِلَّا عَنْ مَشْوَرَةٍ۔(کنز العمال كتاب الخلافت جلد ۵ ص ۶۴۸ حدیث نمبر ۱۴۱۳۶) یعنی خلافت کا انعقاد مشورہ اور رائے کے بغیر درست نہیں۔نیز شورکی خلافت کا ایک اہم ستون ہے۔اسی طرح حضرت میمون بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کا یہ طریق تھا کہ وہ مختلف معاملات میں حکم جاری کرنے سے پہلے دیکھتے تھے کہ کتاب اللہ میں اس بارہ میں کیا حکم ہے۔اگر اس میں نہ ملتا تو پھر سنت رسول اللہ میں تلاش کرتے اور اگر اس میں نہ ملتا تو رؤسا کو جمع کرتے اور ان سے مشورہ کرتے۔جب وہ کسی معاملہ پر اتفاق کرتے تو اس کے مطابق حکم دیتے تھے۔حضرت عمر کا بھی یہی طریق تھا۔اور کتاب و سنت کے بعد وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ حضرت ابو بکر کا اس بارہ میں کیا خیال تھا۔اس کے بعد علماء سے مشورہ کرتے تھے۔(اعلام الموقعین جلد ۱ ص ۶۲ باب الوعيد على القول بالرای ابن قیم جوزی) اس مشورہ کے امر کو نظام خلافت میں ایسے رنگ میں قائم کرنا جو صحیح اسلامی اقدار کے عین مطابق ہو اور افراط و تفریط سے پاک ہو نظام خلافت کے اولین مقصد میں سے ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود اور اہم امور میں صائب الرائے احباب سے مشورہ لینے کی سنت پر ہمیشہ کار بند رہے اور وقتا فوقتا عند الضرورت کبھی انفرادی طور پر اور کبھی اجتماعی طور پر احباب جماعت سے مشورہ لینے کا انتظام فرمایا۔اسی طرح