نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 165
۱۴۴ علی کی خلافت کسی انتخاب پر مبنی نہیں بلکہ صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو رسول کریم ﷺ نے ان کے متعلق کی تھیں۔اس لئے آپ رسول کریم ﷺ کے مقرر کردہ خلیفہ بلا فصل ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے میرے متعلق جب مصلح موعود کے موضوع پر بحث کی جائے تو کوئی شخص کہ دے کہ ان کو تو ہم اس لئے خلیفہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ہیں نہ اس لئے کہ ان کی خلافت جماعت کی اکثریت کے انتخاب سے عمل میں آئی۔جس دن کوئی شخص ایسا خیال کرے گا اسی دن اس کا قدم ہلاکت کی طرف اٹھنا شروع ہو جائے گا کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ صرف ایک شخص کی امامت کا خیال دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے اور نظام خلافت کی اہمیت کا احساس ان کے دلوں سے جاتا رہتا ہے۔غرض حضرت علی کے متعلق بعض غالیوں نے رسول کریم ﷺ کی پیشگوئیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ کی خلافت صرف ان پیشگوئیوں کی وجہ سے ہے جو آپ نے ان کے متعلق کیس کسی انتخاب پر مبنی نہیں ہے۔پھر رفتہ رفتہ وہ اس طرف مائل ہو گئے کہ حضرت علی در حقیقت امام بمعنی مامور تھے اور یہ که خلافت ان معنوں میں کوئی شے نہیں جو مسلمان اس وقت تک سمجھتے رہے ہیں بلکہ ضرورت پر خدا تعالیٰ کے خاص حکم سے امام مقرر ہوتا ہے اور وہ لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کا موجب ہوتا ہے۔“ ( خلافت راشدہ۔انوار العلوم جلد ۵ ص ۴۸۹،۴۸۸) ہے۔“ تر دید مسئلہ خلافت بلا فصل حضرت علی کی خلافت بلا فصل کا نظریہ ایک ایسا نظریہ ہے جس کی قرآن وحدیث نیز عقل و نقل میں کوئی بھی بنیاد نہیں۔یہ محض ایک من گھڑت مسئلہ ہے۔گزشتہ صفحات میں ہم یہ ثابت کر آئے ہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔لہذا اس حقیقت کی