نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 166
۱۴۵ موجودگی میں کوئی شخص خدا کی مرضی و پروگرام کے خلاف اپنی چالا کی ، ہوشیاری یا طاقت کے بل بوتے پر خلیفہ راشد نہیں بن سکتا تھا۔۲۔حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل ایسے تھے کہ آنحضرت کی وفات کے بعد ان کے علاوہ کوئی اور خلیفہ بننے کا اہل ہی نہیں ہو سکتا۔ا۔آپ بلا دلیل و بلاتر در آنحضرت پر ایمان لائے۔۲۔آپ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور آپ کو یار غار اور ثانی اثنین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔آنحضرت نے اپنی زندگی میں آپ کو مسجد نبوی کا امام مقرر کیا اور خود بھی آپ کی امامت میں نماز ادا کی۔۴۔مسجد نبوی میں سوائے حضرت ابوبکر صدیق کے باقی تمام کھڑکیاں بند کروادی گئیں۔۵۔آنحضرت کی وفات کے بعد تمام انصار و مہاجرین نے آپ کو متفقہ طور پر خلیفہ منتخب کر لیا۔نیز خدا کی فعلی شہادت نے آپ کی خلافت پر مبر تصدیق ثبت کر دی۔۔آنحضرت کی یہ حدیث کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کے خلافت کے حق میں وصیت لکھ جاؤں لیکن مجھے اس یقین نے ایسا کرنے سے روک دیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو خلافت پر اکٹھے نہیں ہونے دے گا۔(صحیح مسلم بحواله مشكوة باب مناقب ابوبكر و سيرة الحلبيه جلد ۳ ص ۳۷۱)