نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 131
11 + لینے اور لوگوں کی رائے کا علم حاصل کرنے کا ضروری حکم ہے۔( سلسلہ احمدیہ ص ۳۰۷، ۳۰۸ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے شائع کردہ نظارت تالیف و تصنیف قادیان دسمبر ۱۹۳۹ء) مولانا ابوالکلام آزاد اپنی کتاب مسئلہ خلافت میں خلیفہ کے انتخاب کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔تمام نصوص و دلائل کتاب وسنت اور اجماع امت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے شرائط امامت و خلافت کے بارے میں دو صورتیں اختیار کی ہیں اور قدرتی طور پر یہی دو صورتیں اس مسئلہ کی ہوسکتی تھیں۔اسلام نے اس بارے میں نظام عمل یہ مقرر کیا تھا کہ امام کے انتخاب کا حق امت کو ہے اور طریق انتخاب جمہوری تھا نہ شخصی و نسلی۔یعنی قوم اور قوم کی صائب الرئے جماعت اہل حل و عقد ) کو شرائط و مقاصد خلافت کے مطابق اپنا خلیفہ منتخب کرنا چاہئے۔حکم و امــرهــم شـورای بینهم “بنیاد تمام امور کی شرعاشوری یعنی باہمی مشورہ ہے نہ کہ نسل و خاندان۔خلافت راشدہ کا عمل اسی نظام پر تھا۔خلیفہ اول کا انتخاب عام جماعت میں ہوا ہے۔خلیفہ دوم کو خلیفہ اول نے نامزد کیا اور اہل حل و عقد نے منظور کر لیا۔خلیفہ سوم کا انتخاب جماعت شوری نے کیا۔خلیفہ چہارم کے ہاتھ پر خود تمام جماعت نے بیعت کی نسل، خاندان، ولی عہدی کو اس میں کوئی دخل نہ تھا۔اگر دخل ہوتا تو ظاہر ہے کہ خلافت خلیفہ اول کے خاندان میں آجاتی، یا دوم وسوم کے خاندان میں، مگر ایسا نہیں ہوا۔خلیفہ دوم نے تو قوم کو بھی اس کا موقع نہ دیا کہ ان کے لڑکے کو خلیفہ منتخب کرے۔وصیت کر دی کہ وہ کسی طرح منتخب نہیں ہوسکتا۔مسئلہ خلافت ص ۵۷، از مولانا ابوالکلام آزاد مطبع اصغر پریس لاہور ۲۰۰۴ء)