نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 70 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 70

۴۹ حق یہ ہے کہ خلافت کے زیر سایہ تحریک احمدیت نے ایسا عالمگیر تشخص حاصل کر لیا ہے کہ آج دنیا کا کوئی خطہ اس کی برکتوں سے محروم نہیں اور حقیقی معنوں کے اعتبار سے بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ عالم احمدیت پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ہر آن اور ہر جگہ عالم احمدیت پر خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کا سورج ہمیشہ جلوہ گر رہتا ہے اور خدائی نصرتوں کے زیر سایہ عالمگیر غلبہ اسلام کی یہ موعود صبح لمحہ بہ لحد روشن تر ہوتی چلی جارہی ہے۔۳۔خوف کے بعد امن کا قیام آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ خلافت کی تیسری بڑی برکت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ:۔وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنَّا اور وہ ان کی خوف کی حالت کے بعد امن کی حالت میں تبدیل کر دے گا۔تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت گواہ ہے کہ جب بھی امت مسلمہ یا جماعت احمد پر کوئی خوف کا وقت آیا تو خلافت کی برکت سے وہ امن میں تبدیل ہو گیا۔آنحضرت کی وفات کے بعد امت مسلمہ پر سب سے بڑا خوف کا وقت آیا مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنا کر ان کی خوف کی حالت کو امن میں تبدیل کر دیا۔خلافت کی اس برکت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود اپنی کتاب رسالہ ”الوصیت“ میں تحریر فرماتے ہیں۔”ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے۔اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے