نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 62
۴۱ گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو ہرگز ہرگز نہیں روکوں گا جس کو رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے تیار فرمایا تھا۔یہ شکر ضر ور روانہ ہوگا اور فوری طور پر روانہ ہوگا۔صحابہ نے ایک بار پھر کوشش کی اور پورے ادب سے مشورہ عرض کیا کہ اور کچھ ممکن نہیں تو کم از کم نو عمر اور ناتجربہ کار اسامہ کی جگہ کسی اور تجربہ کار شخص کو امیر لشکر مقرر فرما دیا جائے۔اس پر حضرت ابوبکڑ نے پھر فرمایا کہ ہرگز ممکن نہیں جس کو خدا کے رسول نے مقرر فرما دیا ہے۔ابن ابی قحافہ کی کیا مجال کہ وہ اسے تبدیل کر سکے۔یہ لشکر اسامہ ہی کی قیادت میں جائے گا اور ضرور جائے گا۔چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ باوجود انتہائی نامساعد حالات کے خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس بات کو لفظاً لفظاً پورا کیا جو رسول خدا ﷺ کے مبارک ہونٹوں سے نکلی تھی۔کتنا ایمان افروز نظارہ تھا جب حضرت ابوبکر خود اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے مدینہ سے باہر نکلے۔حضرت اسامہ گوسوار کروایا اور خود ساتھ پیدل چلنے لگے۔حضرت اسامہ بار بار عرض کرتے کہ اے خدا کے رسول کے خلیفہ ! یا تو آپ بھی سوار ہوں یا مجھے اترنے کی اجازت دیں۔فرمایا نہیں ، یہ نہ ہوگا نہ وہ ہو گا۔نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تم پیدل چلو گے۔پس اس شان سے حضرت اسامہ کا لشکر مدینہ سے روانہ ہوا اور بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ خلیفہ وقت کا یہ فیصلہ بہت ہی مبارک اور اسلام کی سربلندی کا موجب ہوا۔دشمن اتنے مرعوب ہوئے کہ مدینہ پرحملہ کی جرات نہ کر سکے اور یہ شکر فتح ونصرت کے ساتھ بانیل مرام مدینہ واپس آیا۔خلافت کے آغاز ہی میں اس پر شوکت واقعہ نے عظمت خلافت کو قائم کر دیا اور ہر شخص پر واضح ہو گیا کہ اسلام کی تمکنت اور دین حق کا غلبہ واستحکام خلافت سے وابستہ ہے۔