نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 58
۳۷ بات دوم برکات خلافت نظام خلافت کی برکات کا مضمون بہت طویل ہے۔تاہم اس مقالہ کے مقررہ حجم کے پیش نظر صرف چند برکات کا مختصر اذکر کیا جاتا ہے جن کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرما دیا ہے۔ا۔ایمان و عمل صالح کا ثبوت خلافت کا وعدہ صرف ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو سچے مومن ہوں اور ان کے اعمال صالح ہوں۔جیسا کہ فرمایا:۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔(نور : ۵۶) یعنی اور تم میں سے وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجالائے۔اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں اسی طرحد خلیفہ بنائے گا جس طرح اس نے ان سے پہلوں کو خلیفہ بنایا تھا۔پس کسی قوم میں خلافت کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قوم مؤمن اور اعمال صالحہ بجالا نیوالی ہے۔۲ تمکنت دین ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں خلافت کی دوسری برکت بیان کرتے ہوئے فرماتا وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ۔