نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 53 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 53

۳۲ سزا کا حقدار بناتی ہیں۔ترکی اسی سلوک کا مستحق ہے کہ اسے کچل دیا جائے“۔وفد عدن اور پورٹ سعید کے شہروں سے ہوتا ہوا لندن پہنچا۔اس وفد میں مولا نا محمد علی، مولانا سید سلیمان ندوی اور سید حسن امام بیرسٹر پٹنہ شامل تھے۔وفد نے برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کی لیکن اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ مفتوحه قوم خواہ مسلمان ہو یا عیسائی، ایک جیسے سلوک کی مستحق ہے۔ترکی نے برطانیہ سے شکست کھائی ہے لہذا اب اسے شکست کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔مولا نا محمد علی نے اس گفتگو کا جواب دینا چاہا تو برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ میں رات بھر بیٹھ کر آپ کی بحث نہیں سننا چاہتا۔ملاقات کے خاتمے پر مولانا سید سلیمان ندوی نے خلافت کی اہمیت کے بارے میں ایک کتا بچہ دینا چاہا تو برطانوی وزیر اعظم نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور کتاب لینے سے انکار کر دیا۔اس کے بعد وفد خلافت نے فرانس اور اٹلی کے متعدد شہروں کا دورہ کیا اور اپنے مشن سے لوگوں کو آگاہ کیا۔نومبر ۱۹۲۰ء میں وفد واپس ہندوستان پہنچا۔ستمبر ۱۹۲۰ء میں گاندھی اور علی برادران کے مشورے سے طے پایا کہ عدم تعاون کی ملک گیر تحریک چلائی جائے۔عدم تعاون کے پروگرام کی کانگرس ، جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے حمایت کر دی۔عدم تعاون کی اپیل کا ہندوؤں اور مسلمانوں نے کھلے دل سے خیر مقدم کیا۔دسمبر ۱۹۲۱ء سے جنوری ۱۹۲۲ء کے درمیانی عرصے میں تین ہزار سے زائد ہندو و مسلم تحریک عدم تعاون کے سلسلے میں گرفتار کئے گئے۔مولانا محمد علی ، مولانا شوکت علی ، مولانا حسین احمد مدنی ، ڈاکٹر سیف الدین اور پیر غلام مجدد نثار احمد کو دو دو سال کے لئے قید کر دیا گیا۔عدم تعاون کی تحریک کو گرفتاریوں سے زبردست دھچکا لگا، لیکن اس کے مکمل خاتمے میں تشدد آمیز واقعات نے حصہ لیا۔تحریک خلافت سے کانگرس کو دو فائدے حاصل ہوئے۔ایک تو مسلمان دھڑا دھڑ کانگرس میں