نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 52
۳۱ تحریک خلافت پہلی عالمگیر جنگ میں ترکوں نے انگریزوں کے خلاف جرمنی اور آسٹریلیا کا ساتھ دیا تھا۔نومبر ۱۹۱۸ء میں انگریزوں کو فتح ہوئی۔۵ جنوری ۱۹۱۸ء کو برطانوی وزیر اعظم لائیڈ جارج نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے زور دے کر واضح کیا تھا کہ ہم ترکی کی سلطنت اور اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ کے لیے قطعاً کسی خطرے کا سبب نہیں بنیں گے اور ہماری طرف سے ترکی کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔لیکن ۱۹۱۹ء کی صلح کا نفرنس میں سلطنت ترکی کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔خلافت بھی عملاً ختم کر دی گئی۔ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا۔تحریک خلافت کا آغاز احتجاجی جلسوں سے ہوا۔مسلم کانفرنس کے اجلاس لکھنو میں آل انڈیا سنٹرل خلافت کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔۲۷ اکتو بر ۱۹۱۹ء کو ملک بھر میں یوم خلافت منایا گیا۔تمام کاروبار بند رہے۔۱۳ دسمبر ۱۹۱۹ء کو حکومت نے ہفتہ تقریبات امن منانے کا اعلان کیا لیکن مسلمانوں نے ان تقریبات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔خلافت کا نفرنس کا پہلا اجلاس ۲۴ نومبر ۱۹۱۹ءکو دہلی میں مسٹر فضل الحق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مسٹر گاندھی ، موتی لال نہرو اور پنڈت مدن موہن مالوی بھی شریک ہوئے۔مسٹر گاندھی نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی بھر پور حمایت کا یقین دلایا۔۱۹۲۰ء میں بمبئی میں خلافت کا نفرنس کا اجلاس ہوا اور فیصلہ ہوا کہ خلافت کے مسئلے پر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایک وفد یورپ روانہ کیا جائے۔دوسری طرف برطانیہ دنیا بھر میں یہ جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف تھا کہ ترکی کی حرکتیں اسے سخت ترین