نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 49 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 49

۲۸ ا۔ماہنامہ سبق پھر پڑھ اچھرہ لاہور کے مدیر چوہدری رحمت علی صاحب لکھتے ہیں:۔حیرت و تأسف تو اس بات پر ہے کہ آج کی دنیا میں صرف کفار و مشرکین ہی طاغوتی نظاموں کی سر پرستی نہیں کر رہے مسلمان بھی خلافت سے منہ موڑ کر ایسی ہی من مرضی کی حکومتیں رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔اس میں کیا شک کہ قرآن وسنت کے مطابق پوری اسلامی دنیا کا صرف ایک ہی خلیفہ (سربراہ ) ہو سکتا ہے۔حل ایک ہی ہے کہ خلافت کی گاڑی جہاں سے پڑی سے اتری تھی وہیں سے اسے پھر پڑی پر ڈال دیا جائے۔واضح اور دوٹوک تشخیص کے بعد امت کے تمام دکھوں کے لئے ایک ہی شافی نسخہ ہے کہ خلافت کو اس دنیا میں پھر بحال کر دیا جائے وقت گزرتا جا رہا ہے۔ہمارے وہ محترم بھائی جو آج کسی نہ کسی طور امت کی قیادت پر متمکن ہیں اور وہ جہالت کے سرداروں کی طرف باہم دگر رہتے ہیں، خلافت کو بحال کرنے کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔پھر قائدانہ مناصب پر ہوتے ہوئے ان کے لئے بحالی خلافت کا کام قدرے آسان بھی ہے۔لہذا وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے سے پہلے اگر یہ کام کر جائیں تو انشاء اللہ قیامت کے دن اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوں گے“۔(ماہنامہ سبق پھر پڑھ “ جلد ۲ شماره ۸/اگست ۱۹۹۲ء ص ۱۶) ۱۲۔فروری ۱۹۷۴ء میں مسلم سربراہان کی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی۔اس تاریخی موقعہ پر مولانا عبدالماجد دریا آبادی ایڈیٹر صدق جدید نے خلافت کے بغیر اندھیرا کا عنوان دے کر ایک نہایت بصیرت افروز مضمون لکھا۔مولانا موصوف لکھتے ہیں:۔