نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 50
۲۹ ” اتنے تفرق و تشنت کے باوجود کبھی کسی کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ عراق کا منہ کدھر اور شام کا رخ کس طرف ہے؟ مصر کدھر اور حجاز اور یمن کی منزل کونسی ہے اور لیبیا کی کونسی؟ ایک خلافت اسلامیہ آج ہوتی تو اتنی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں آج مملکت اسلامیہ کیوں تقسیم در تقسیم ہوتی ؟ ایک اسرائیل کے مقابل پر سب کی الگ الگ فوجیں کیوں لانا پڑتیں۔ترک اور دوسرے فرمانروا آج تک تنسیخ خلافت کی سزا بھگت رہے ہیں اور خلافت کو چھوڑ کر قومیتوں کا جو افسوس شیطان نے کان میں پھونک دیا وہ دماغوں سے نہیں نکالتے“۔(روز نامہ صدق جدید لکھنو۔یکم مارچ ۱۹۷۴ء) مگر ان بدنصیبوں کو کون بتائے کہ خلفاء کا تقر ر خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور یہ نعمت عظمیٰ ان لوگوں کے لئے رکھی ہے جو آمنوا وعملو الصالحات کے مصداق ہیں۔جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے ایک غلام اور عاشق صادق اور آپ کی پیروی اور غلامی سے امتی نبوت کا درجہ پانے والے بانی سلسلہ احمد بیت حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام سے اپنے آپ کو منسوب کیا اور خدا تعالیٰ نے ان کو نعمت خلافت سے نوازا۔