نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 46
۲۵ ۵۔ماہنامہ جدو جہد لا ہورلکھتا ہے:۔مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تمہیں ممالک کا ایک عظیم اسلامی بلاک صرف اتحاد اتفاق کی نعمت سے محروم ہونے کی وجہ سے مغربی اقوام سے پٹ رہا ہے۔اب وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان ممالک متحد ہو کر اس دشمن اسلام اقوام متحدہ کو چھوڑ کر خلافت اسلامیہ کا احیاء کریں۔ایک فعال قوت کی حیثیت سے زندہ رہنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔(ماہنامہ جد و جہد لا ہورا گست ۱۹۷۴ء)۔احیائے خلافت کی حالیہ تحریکوں میں سے ایک تحریک کے داعی چوہدری رحمت علی صاحب اپنی کتاب ”دار السلام میں لکھتے ہیں:۔نفاذ غلبہ اسلام اور وجود قیام خلافت لازم و ملزوم ہیں۔بالفاظ دیگر جیسے دن سورج کا محتاج ہے اور بغیر اندھیرے کے رات کا تصور ناممکن ہے۔اسی طرح خلافت معرض وجود میں ہوگی تو اسلام کا نفاذ غلبہ ممکن ہو گا ورنہ اس خیال است و محال است و جنوں‘ نیز تاریخ مزید ثبوت مہیا کرتی ہے کہ جب خلافت اپنے عروج پرتھی۔اسلام کا ے۔بھی وہی سنہری دور تھا۔( دار السلام عمران پبلیکیشنز اچھر و لا ہور ۱۹۸۵ء ص۳) - جناب فضل محمد یوسف زئی استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی لکھتے ہیں:۔دد مسلمان ترس رہے ہیں کہ کاش ہماری ایک خلافت ہوتی ، ہمارا ایک خلیفہ ہوتا، کاش ہماری ایک بادشاہت ہوتی ، کاش ہمارا ایک بادشاہ ہوتا جس کی بات پوری دنیا کے مسلمانوں کی بات ہوتی جس میں وزن ہوتا جس میں عظمت ہوتی جس میں شجاعت ہوتی جس کی وجہ سے اقوام متحدہ میں ان کی حیثیت ہوتی عالمی برادری میں ان کی قیمت ہوتی ویٹو پاور میں ان کا مقام ہوتا سلامتی کونسل میں اس کا نام ہوتا “ (ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک۔مارچ ۲۰۰۰ ء ص ۵۸ )