نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 47
۲۶ تحریک خلافت کے داعی اور تنظیم اسلامی کے امیر ڈاکٹر اسراراحمد لکھتے ہیں:۔اول دور خود حضور اور خلفائے راشدین کا دور ہے۔جسے خلافت علی منہاج النبوۃ کہا جاتا ہے اور قیامت سے پہلے آخری دور میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ کا نظام قائم ہوگا۔اس قول سے یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ حضور نے اسلام کا نظام عدل اجتماعی جس طریقے سے قائم فرمایا تھا صرف اسی طریقے سے اب یہ نظام قائم ہوسکتا ہے وہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہر شخص اپنی ذات میں اللہ کا خلیفہ بنے پھر اپنے گھر اور دائرہ اختیار میں خلافت کا حق ادا کرے، اس کا تقاضہ پورا کرے اور جولوگ یہ دومر حلے طے کر لیں انہیں بنیان مرصوص بنا کر ایک نظم میں پرو دیا جائے اور پھر یہی لوگ باطل کے ساتھ ٹکرا جائیں، میدان میں آکر منکرات کو چیلنج کریں اور اپنے سینوں میں گولیاں کھائیں۔( پاکستان میں نظام خلافت۔امکانات، خدو خال اور اس کے قیام کا طریق ص۱۳۲ انجمن خدام القرآن لاہور ۱۹۹۲ء) ۹۔"حزب التحریر نامی تنظیم کی طرف سے مورخہ ۱۳ را پریل ۲۰۰۳ء کو ایک پمفلٹ اسلام آباد میں تقسیم کیا گیا جس کا عنوان تھا۔”حزب التحریر کی پکاڑ ”صرف خلافت کے ذریعہ ہی تم فتح حاصل کرو گے“۔اس میں لکھا گیا ہے کہ:۔”اے مسلمانو، کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ تم اپنے معاملات پر غور کرو اور اس بات کو جان لو کہ اس تہہ در تہہ ظلمت سے نکالنے والا صرف نظام خلافت ہی ہے؟“ کیا تم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تصدیق نہیں کرتے جب وہ تمہارے لئے بیان کرتا ہے کہ تم کو کس طرح عزت اور نصرت ملے گی۔”بلاشبہ تمام کی تمام عزت اللہ کے لئے ہی ہے۔اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا“۔66