نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 452
۴۳۱ پیش کی گئیں۔چنانچہ حضور کی منظوری سے جلسہ سالانہ ۱۹۹۳ کو جو بلی کے جلسہ طور پر منانے کا فیصلہ ہوا۔اس موقع پر ایک اور اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ اس مبارک موقع پر جماعت احمدیہ کا ایک جھنڈا تجویز کیا جائے جسے جلسہ جو بلی کے موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ خود اپنے دست مبارک سے لہرائیں۔چنانچہ جلسہ جو بلی کے سلسلہ میں تقریبات کی تیاری کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی گئی جس کے صدر حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کو کیا گیا اور آپ کی غیر حاضری میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے قائمقامی کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔اور حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب سیکریٹری کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔پس ۲۸ دسمبر ۱۹۳۹ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خلافت کی سلور جوبلی انتہائی شان و شوکت سے منائی گئی۔صد سالہ خلافت احمد یہ جوبلی منصوبہ مشرقی افریقہ کے دورہ سے واپس آکر مورخہ ۲۷ مئی ۲۰۰۵ء کو بیت الفتوح مورڈن لندن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے حضور انور نے خلافت کی اہمیت اور برکات کا ایمان افروز تذکرہ فرمایا کہ جماعت احمد یہ ۹۷ سال سے خدا تعالیٰ کی نصرتوں اور فضلوں کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ خلافت کے استحکام کے لئے دعائیں کرے اور اعمال صالحہ بجالائے۔حضور انور نے فرمایا کہ تین سال بعد خلافت کی صد سالہ جوبلی ہوگی اور اس کے لئے دعاؤں پر زور دیں۔حضور نے اس موقعہ پر بعض خاص دعائیں پڑھنے کی تحریک بھی فرمائی اور اس سلسلہ میں ایک روحانی پروگرام عطا فرمایا اور اس خلافت جوبلی منصوبہ کے