نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 443 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 443

۴۲۲ بیعت کی اور پھر حضرت عمرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔پھر حضرت عثمان کے ہاتھ پر۔پھر حضرت علیؓ کے ہاتھ پر۔کل صحابہ کا ایک کے بعد دوسرے کے ہاتھ پر بغیر اختلاف کے بیعت کرتے جانا ثابت کرتا ہے کہ سب اس بات پر متفق تھے اور کسی جماعت صحابہ کا انکار مسئلہ خلافت پر ثابت نہیں۔بلکہ سب مقر تھے۔پس صحابہ کے اجماع کے خلاف فتوی دینے والا خدا تعالیٰ کی رضا کیونکر حاصل کر سکتا ہے۔صحابہ تو لھم اجمعون خلافت کے مسئلہ پر ایمان لائیں اور اپنی ساری عمر اس پر عامل رہیں اور خدا ان کی اتباع کو اپنی رضا کا موجب قرار دے۔اور آج چند اشخاص اٹھ کر کہیں کہ شخصی خلافت مراد نہیں اسلام میں جمہوریت ہے۔حضرت مسیح موعود کی شہادت خلافت کے متعلق حضرت اقدس نے حمامۃ البشری میں یہ حدیث درج فرمائی ہے۔ثم يسافر المسيح الموعود او خليفة من خلفائه الى ارض دمشق اس حدیث کو نقل کر کے حضرت صاحب نے خلافت کے مسئلہ پر دو گواہیاں ثبت کر دی ہیں ایک تو نبی کریم کی گواہی کہ مسیح موعود کے بھی خلیفے ہوں گے اور دوسری اپنی گواہی کیونکہ آپ نے اس حدیث کو قبول کیا ہے پس آپ نے اپنے بعد جو کچھ ہونے والا تھا۔اس کا اظہار اس حدیث کے درج کر دینے سے اپنی وفات سے قریباً پندرہ سال پہلے کر دیا تھا کہ میرے بعد خلیفے ہوں گے۔اگر خلیفوں کا ہونا خلاف اسلام ہوتا یا آپ کے بعد خلفاء کا وجودحضرت صاحب کے یا اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہوتا تو آپ کبھی یہ نہ فرماتے کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ شام کو جائے گا اگر کوئی کہے کہ گو آپ نے خلیفہ کا شام جانا قبول فرمایا ہے مگر یہ تو نہیں فرمایا کہ