نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 437 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 437

۴۱۶ حضرت مسیح موعود کی جانشین شخصی خلافت یا انجمن جماعت احمد یہ مبائعین اور پیغامیوں یعنی غیر مبائعین کے درمیان سب سے بڑا اختلافی مسئلہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد رسالہ الوصیت کے مطابق شخصی خلافت کی قائل ہے۔جبکہ پیغامی یعنی غیر مبائعین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نظام خلافت قائم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ جماعت کے تمام معاملات اور امور کی نگران کسی شخصی خلافت کی بجائے انجمن معتمدین ہونی چاہئے۔مگر اس مسئلہ کا حل خود خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ ((نور (۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں بھی اسی طرح کے خلیفہ بنائے گا جس طرح پہلے لوگوں میں بنائے۔اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ایک تو یہ کہ مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ ویسے ہی خلیفے بنائے گا جیسے پہلوں میں بنائے۔اب اگر پہلی امتوں میں نبیوں کے بعد انجمنیں بنتی تھیں تو اب بھی انجمن ہی خلیفہ ہوگی اور اگر پہلی قوموں میں شخص واحد نبی کا قائم مقام ہوتا رہا تو اب بھی شخص واحد ہی قائم مقام ہوگا۔پس سوال یہ ہے کہ کیا پہلے کسی نبی کا خلیفہ کبھی انجمن بھی ہوئی ہے؟ کبھی نہیں۔حضرت موسیٰ کا خلیفہ بھی ایک ہی شخص ہوا۔پس ضرور تھا کہ نبی کریم کا خلیفہ بھی ایک ہی شخص ہوتا اور مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ بھی ایک ہی شخص ہوتا نہ انجمنیں۔کیونکہ لفظ گئما نے اس مسئلہ کو بالکل صاف کر دیا ہے اور آیت هو الذى