نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 434 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 434

۴۱۳ کی روشنی میں درست نہیں کیونکہ قرآن کریم میں دیگر مقامات پر خلافت کے ساتھ الارض کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر وہاں خلافت سے مراد حکومت نہیں لیا جاتا۔جیسا کہ حضرت آدم کے لئے فرما یا إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (بقرہ: ۳۱) یقیناً میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔اسی طرح فرمایا وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْاَرْضِ (النمل:۶۳) اور وہ تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔اسی طرح سورۃ یونس میں فرمایا کہ ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَلَّيْفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔(یونس: ۱۵) پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔اس آیت کریمہ میں تو آیت استخلاف کی طرح اعمال کا بھی ذکر آیا ہے جس طرح آیت استخلاف میں خلافت اعمال صالحہ کے ساتھ مشروط قرار دی گئی ہے اسی طرح اس آیت کریمہ میں خلافت دینے کا مقصد ہی اچھے اعمال بجالانا شرط قرار دیا گیا ہے۔لہذا یہ استدلال کہ آیت استخلاف میں خلافت فی الارض کا ذکر ہے اس لئے خلافت روحانی کے ساتھ دنیاوی بادشاہت اور حکومت کا ملنا ضروری ہے، درست قرار نہیں پاتا۔۔یہ دلیل کہ خلافت راشدہ اولی یعنی خلفاء اربعہ کو دنیاوی بادشاہت بھی حاصل تھی۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ اس وقت کے مخصوص حالات کے پیش نظر خلفاء اربعہ کو دنیاوی بادشاہت کا حاصل ہونا آئندہ کے لئے کوئی قاعدہ کلیہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔خلفاء اربعہ کو حکومت ملنا ان کے لئے ایک جزوی امتیاز تھا۔آنحضرت ﷺ نے اپنے بعد جس خلافت کی پیشگوئی فرمائی تھی اس میں اپنے بعد خلافت علی منہاج نبوت کی