نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 430
۴۰۹ قیامت تک رہے گی۔اس سے بھی یہی مراد ہے کہ امت اسلامی کی تباہی تک قریش بر سر حکومت رہیں گے اور پھر بالآخر انہیں کے ہاتھوں سے تباہی کا بیج بویا جا کر اسلام میں ایک نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعی مطالعہ سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ قریش کی امارت وخلافت کے متعلق جو آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے اس سے محض پیشگوئی مراد ہے، حکم یا سفارش مراد نہیں اور پھر یہ پیشگوئی بھی میعادی اثر رکھتی تھی یعنی اسلام کے دور اول کے ساتھ مخصوص تھی اور آپ کا منشاء یہ تھا کہ چونکہ اس وقت حکومت کی اہلیت سب سے زیادہ قریش میں ہے اس لئے آپ کے بعد وہی بر سر حکومت واقتدار ر ہیں گے۔لیکن جب ایک عرصہ کے بعد وہ اس اہلیت کو کھو بیٹھیں گے تو پھر اس وقت امت محمدیہ پر ایک انقلاب آئے گا اور اس کے بعد ایک نئے دور کی داغ بیل قائم ہو جائے گی۔الغرض یہ بات درست نہیں ہے کہ اسلام نے حکومت کے حق کو کسی خاص خاندان یا قوم کے ساتھ محدود کر دیا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اسلام میں حکومت انتخاب سے قائم ہوتی ہے اور انتخاب میں ہر شخص کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔( سيرة خاتم النبین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اے۔اے ص ۶۴۴ - ۶۴۷ نیا ایڈیشن)