نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 427
سوال نمبر 9 - الْاَئِمَّةُ مِنَ الْقُرَيْش۔بعض لوگ اس حدیث سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔وو جواب۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سیرۃ خاتم النبین میں تحریر فرماتے ہیں:۔دلیل جو اس خیال کو غلط ثابت کرتی ہے یہ ہے کہ اسلام میں اصولاً قومی یانسلی خصوصیات کو دینی یا سیاسی حقوق کی بنیاد نہیں تسلیم کیا گیا۔بالفاظ دیگر اسلام میں ان معنوں کے لحاظ سے کوئی ذاتیں نہیں کہ فلاں ذات کو یہ حقوق حاصل ہوں گے اور فلاں کو یہ بلکہ اس میں ذاتوں اور قوموں کو صرف تعارف اور شناخت کا ایک ذریعہ رکھا گیا ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُم۔وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ یعنی ”اے مسلمانو ! تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ایک قوم دوسری قوم پر اپنی بڑائی بیان کرے یا دوسری قوم کو اپنے سے نیچا سمجھے۔کیونکہ تمہیں کیا معلوم ہے کہ خدا کی نظروں میں کون بڑا ہے اور ہم نے جو تمہیں دنیا میں قوموں اور قبائل کی صورت میں بنایا ہے تو اس کی غرض صرف یہ ہے کہ تم آپس کی شناخت اور تمیز میں آسانی پاؤ۔یہ نہیں کہ تم اس تفریق پر کسی قسم کی بڑائی یا خاص حقوق کی بنیاد سمجھو۔کیونکہ خدا کی نظر میں تم میں سے بڑا وہ ہے جو خدائی قانون کی زیادہ اطاعت اختیار کرتا ہے۔خواہ وہ کوئی ہو۔اس واضح اور غیر مشکوک اصولی تعلیم کے علاوہ قرآن شریف خاص خلافت و امارت کے سوال میں بھی قومی یا خاندانی حق کے خیال کو رد کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا اَلَامَنتِ إِلَى أَهْلِهَا لا