نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 420
۳۹۹ یا د رکھنا چاہئے کہ خلافت نبوت پہلے نبی کی تائید کے لئے آتی ہے اور خلافت ملوکیت مومنین کے حقوق کی حفاظت اور ان کی قوتوں کے نشو و نما کے لئے آتی ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے انبیاء کو جو خلفاء انبیاء ملے تو ان کی خلافت ناقص تھی کیونکہ گو وہ ان کے کام کو چلاتے تھے مگر نبوت براہ راست پاتے تھے۔پس ان کی خلافت کامل خلافت نہ ہوتی تھی اور اگر ان کی اقوام کو خلفاء ملوکی ملے تو ان کی خلافت بھی ناقص خلافت ہوتی تھی کیونکہ وہ اختیارات براہ راست ورثہ سے پاتے تھے اور اس کے نتیجہ میں ان کی قسم کے قومی پورے طور پر نشو و نما نہ پاتے تھے کیونکہ ان کے مقرر کرنے میں امت کا دخل نہ ہوتا تھا اسی طرح جس طرح نبیوں کا اپنے تابع نبیوں کی نبوت میں دخل نہ ہوتا تھا۔چنانچہ جہاں بھی باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا ورثہ کے طور پر تخت حکومت سنبھالتے چلے جاتے ہیں وہاں اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ پبلک کے علمی معیار کو بلند کیا جائے اور اس کے ذہنی قومی کو ایسا نشو و نما دیا جائے کہ وہ صحیح رنگ میں حکام کا انتخاب کر سکے لیکن جہاں حکام کا انتخاب پبلک کے ہاتھ میں ہو وہاں حکومت اس بات سے مجبور ہوتی ہے کہ فردکو عالم بنائے ، ہر فرد کو سیاست دان بنائے اور ہر فرد کوملکی حالات سے باخبر رکھے تا کہ انتخاب کے وقت ان سے کوئی بیوقوفی سرزد نہ ہو جائے۔پس اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے لوگوں کے علمی نشو و نما کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام کے انتخاب کا حکم دیا۔پس رسول کریم ہے سے پہلے انبیاء کی خلافت خواہ وہ خلافت نبوت ہو یا خلافت ملوکیت ناقص تھی لیکن رسول کریم ہے چونکہ صحیح معنوں میں کامل نبی تھے۔اس لئے آپ کے بعد جو نبی آیا یا آئیں گے وہ آپ کے تابع ہی نہ ہوں گے بلکہ آپ کے فیض سے نبوت پانے والے ہوں گے۔اسی طرح چونکہ آپ کی قوم صحیح معنوں میں کامل امت تھی جیسا کہ فرمایا۔