نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 419 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 419

۳۹۸ با وجود پہلی خلافتوں سے ایک اختلاف رکھنے کے اس آیت کے وعدہ میں شامل ہے۔خلافت راشدہ۔انوار العلوم جلد ۵ ص ۵۶۴ تا ۵۶۶) سوال نمبر ۴:۔چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر اس آیت سے افراد مراد لئے جائیں تو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وعدہ دو قسم کے وجودوں کے متعلق ہے۔ایک نبیوں کے متعلق اور ایک بادشاہوں کے متعلق۔چونکہ آنحضرت ﷺ سے پہلے جس قسم کے نبی آیا کرتے تھے ان کو رسول کریم ﷺ نے ختم کر دیا اور بادشاہت کو آپ نے پسند نہیں فرمایا بلکہ صاف فرما دیا کہ میرے بعد کے خلفاء بادشاہ ہوں گے تو پھر کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ اس آیت میں وعدہ قوم سے ہی ہے افراد سے نہیں۔جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلی قسم کی نبوت بھی ختم ہوگئی اور پہلی قسم کی ملوکیت بھی ختم ہوگئی لیکن کسی خاص قسم کے ختم ہو جانے سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ اس کا قائم مقام جو اس سے اعلیٰ ہو وہ نہیں آسکتا۔رسول کریم ﷺے چونکہ سب انبیاء سے نرالے تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے بعد کا نظام بھی سہ نظاموں سے نرالا ہو۔اس کا نرالا ہونا اسے مشابہت سے نکال نہیں دیتا بلکہ اس کے حسن اور خوبصورتی کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔چنانچہ آپ چونکہ کامل نبی تھے اور دنیا میں کامل شریعت ہوئے تھے اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایسے نبی ہوتے جو آپ سے فیضان حاصل کر کے مقام نبوت حاصل کرتے اسی طرح آپ کا نظام چونکہ تمام نظاموں سے زیادہ کامل تھا اس لئے ضروری تھا کہ آپ کے بعد ایسے خلفاء ہوتے جو پبلک طور پر منتخب ہوتے۔غرض رسول کریم ﷺ کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی اور ملوکیت بھی ایک نئے رنگ میں ڈھال دی اور پہلی قسم کی نبوت اور پہلی قسم کی ملوکیت کو ختم کر دیا۔