نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 38 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 38

۱۷ خلافت کا سلسلہ جاری فرمایا جس کی تصدیق اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔مَا كَانَتْ نُبُوَّةً قَطُّ إِلَّا تَبْعَتُهُ خِلَافَةٌ۔(مجمع الزوائد على بن ابى بكر الهيثمي جلد ۵ ص ۱۸۸ دار الكتاب العربی قاہرہ بیروت ۱۴۰۷) یعنی کوئی بھی ایسی نبوت نہیں گزری جس کے بعد خلافت قائم نہ ہوئی ہو۔پس اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں پر خلافت سے مراد خلافت علی منہاج النبوۃ ہے جو نبوت کی جانشین اور قائمقام ہوتی ہے۔جس کے قیام کا مقصد در حقیقت برکات رسالت کو جاری رکھنا ہوتا ہے اور وہ مقصد جس کے پیش نظر انسان کو پیدا کیا گیا ہے نبی سابق کی تعلیم کی روشنی میں اس کی راہنمائی کرنا۔نیز تجدید دین کرنا اور نبی کے وجود کوظلی طور پر قائم رکھنا ہوتا ہے۔اور نبی کے ماننے والوں میں اتحاد و تنظیم قائم رکھنا ہے۔نظام خلافت کے اغراض و مقاصد کو سمجھنے کے لئے سورۃ نور کی آیت ۵۶ ( جو آیت استخلاف کے نام سے معروف ہے ) ہماری مکمل راہنمائی کرتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنَا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ) (نور: ۵۶) ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ان سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور ان کے لئے ان کے دین کو ، جو اس نے ان کے لئے پسند کیا،