نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 313 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 313

۲۹۲ آئی اور حضور ۹ جون ۱۹۸۲ء کو ۷۳ برس کی عمر میں اسلام آباد، پاکستان میں انتقال فرما کر محبوب حقیقی سے جاملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون ط آپ کا جنازہ اسلام آباد سے ربوہ لایا گیا جہاں پر ۱۰ جون ۱۹۸۲ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں پاکستان اور بیرون ممالک سے آئے ہوئے ہزار ہا احباب شامل ہوئے۔نماز جنازہ کے بعد آپ کا جسد عصری مقبرہ بہشتی ربوہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے مزار کے پہلو میں سپردخاک کر دیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی اچانک وفات کا المناک سانحہ جماعت احمدیہ کے لئے ایک بہت بڑا غیر معمولی صدمہ تھا۔مگر جماعت نے دینی تعلیم کے مطابق اسے نہایت صبر کے ساتھ برداشت کیا۔اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ الہ تعالی نے جماعت کے اتحادو اتفاق کو قائم رکھا اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے وجود میں قدرت ثانیہ کا چوتھا مظہر عطا کر کے اپنے وعدہ کے مطابق جماعت کے خوف کوامن وسکیت میں بدل دیا۔الحمد للہ علیٰ ولک