نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 312 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 312

۲۹۱ سائنسدان جسے نوبل پرائز ملا ہے۔وہ خدا کے فضل سے احمدی ہے۔حضور نے یہ دعا فرمائی کہ:۔اللہ تعالی مستقبل میں آپ کو اس سے بھی زیادہ بڑے اعزاز عطافرمائے اور اس کی تائید و نصرت ہمیشہ آپ کو حاصل رہے“۔آمین حضور کا عقد ثانی ۳ دسمبر ۱۹۸۱ء کو حضرت خلیفۃ المسح الثانی کی حرم حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ ( بنت حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ ) مختصرسی علالت کے بعد رحلت فرما گئیں۔اناللہ و نا علیہ راجعون اپنی خوبیوں اور دل موہ لینے والی شخصیت کے ساتھ وہ ایک بہترین رفیقہ حیات تھیں۔قدرتی طور پر حضور نے بے حد صدمہ محسوس فرمایا۔تاہم اپنے فرائض کی بجا آوری میں دل جمعی اور خاص طور پر خواتین میں اصلاحی مہمات کے تسلسل کے لئے آپ نے عقد ثانی کا ارادہ فرمایا۔اس سلسلے میں آپ نے چالیس روز تک دعائیں کیں اور جماعت بعض بزرگ اصحاب سے بھی سات روز تک استخارہ کرنے کے لئے فرمایا۔آخر ان دعاؤں کے نتیجہ میں جب آپ کو اچھی طرح اطمینان ہو گیا تو اارا پریل ۱۹۸۲ء کو آپ کی شادی حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ صاحب بنت محترم عبدالمجید خان صاحب آف ویرووال کے ساتھ انتہائی سادگی کے ساتھ عمل میں آئی۔حضور کی وفات ماہ جون ۱۹۸۲ء کے ابتدائی ایام میں جبکہ حضور اسلام آباد میں مقیم تھے۔حضور کو اچانک دل کے عارضہ کا شدید حملہ ہوا ہرممکن علاج کیا گیا لیکن خدا کی مشیت غالب