نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 299
۲۷۸ خلافت ثالثہ قدرت ثانیہ کے دوسرے مظہر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب انتہائی کامیاب زندگی گزار کرے نومبر ۱۹۶۵ء کو وفات پاگئے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے فرزند اکبر حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب (ایم۔اے آکسن ، ۱۹۰۹ء تا ۱۹۸۲ء) ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو بطور خلیفہ مسیح الثالث منصب خلافت پر فائز ہوئے۔آپ کا وجود بھی خدائی بشارتوں کا حامل تھا۔پہلی بشارت :۔حضور کو القاء کیا گیا کہ ۱۹۶۵ء سے قربانیوں کے ایک عہد جدید کا آغاز ہونے والا ہے اس امر کا ثبوت کہ اس نئے عہد سے مراد خلافت ثالثہ ہے واضح طور پر یہ ہے کہ حضور کو۱۹۴۴ء میں بذریعہ رویا یہ دکھایا گیا کہ آپ کی مزید عمرا کیس ” تک ہوگی الفضل ۲۹ را پریل ۱۹۴۴ء ) اس کے علاوہ حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت ۱۹۴۱ء میں نئی پیدائش سے بیعت مراد لی۔چنانچہ فرمایا :۔66 بیعت کا وقت تو نہایت سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے۔یہ تو نئی پیدائش کا وقت ہوتا ہے۔(ص ۱۸) دوسری بشارت :۔حضرت مصلح موعود کو جناب الہی کی طرف سے یہ الہامی بشارت دی گئی کہ آپ کے وصال پر ” جماعت میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوگی“ (تفسیر کبیر العلق ص۱۸۹)۔بالفاظ دیگر پوری جماعت بالا تفاق خلافت ثالثہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی جیسا کہ یہ روح پرور نظارہ پوری دنیا نے دیکھا۔