نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 286 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 286

۲۶۵ احمدیت کے خلاف ایک نفرت کی وسیع آگ پیدا کر دی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ احمدیوں کو لوگ طرح طرح کی اذیتیں دینے لگے ان کے اموال کو لوٹنے لگے اور اسلام کے ان ٹھیکیداروں نے احمدیوں کی مسجدوں کو آگ لگانے کا ایک وسیع سلسلہ شروع کر دیا۔اس وقت حکومت پنجاب کے اہلکار بھی ان کی پیٹھوں پر تھپکیاں دے رہے تھے۔غرض انتہائی خطرناک حالات احمدیت کے لئے پیدا کر دیئے گئے مگر اسی زمانے میں جبکہ فتنہ انتہائی زوروں پر تھا ہمارے امام حضرت فضل عمر نے یہ اعلان فرمایا کہ:۔احمدیت خدا کی قائم کی ہوئی ہے۔۔۔اگر یہ لوگ جیت گئے تو ہم جھوٹے ہیں لیکن اگر ہم سچے ہیں تو یہی لوگ ہاریں گے۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ یہ فتنہ نا کام ہو گیا اور خود فتنہ پھیلانے والے ذلیل ہوئے اور ایک دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ واقعی خدا تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں جماعت کی مدد کی اور جو لوگ احمدیت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب دیکھتے تھے ان کے خواب ادھورے رہ گئے اور وہ ذلیل اور ناکام ہوئے۔تقسیم ہند و ہجرت قادیان ۱۹۴۷ء میں پاکستان قائم ہونے پر ملک میں خطرناک فسادات شروع ہو گئے۔ضلع گورداسپور جس میں قادیان واقع تھا بھارت میں شامل کر دیا گیا۔حضرت اقدس نے قادیان کی آبادی کو حفاظت کے ساتھ پاکستان پہنچانے کے لئے دن رات کام کیا جہاں اور لوگ لاکھوں کی تعداد میں لوٹے گئے اور مارے گئے۔وہاں احمدی جماعت کے اکثر افراد حضور کی راہنمائی میں بڑی عمدگی کے ساتھ ایک خاص انتظام کے ماتحت پاکستان پہنچ گئے۔دوسری طرف آپ نے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے قادیان