نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 264
بڑھتے چلے گئے۔۲۴۳ دوست تو الگ رہے اولوالعزمی کے اس پیکر کو وہ مشاہیر بھی خراج تحسین پیش کئے بغیر نہ رہ سکے جو دوستوں کے زمرہ میں بھی شامل نہ تھے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی شدید مخالفانہ حالات میں آپ کے ثبات قدم سے متاثر ہو کر لکھتے ہیں کہ :۔مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان سے کام کر کے اپنی مغلی جوانمردی کو ثابت کر دیا“۔لا ریب آپ نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان سے کام کر کے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک ”صاحب شکوہ اور اولوالعزم مرد تھے جس کے سر پر خدا کا سایہ تھا۔خلافت ثانیہ کا مبارک دور ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو شروع ہوا اور ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو ختم ہوا۔گویا خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ دور تقریباً باون سال تک جاری رہا اس عرصہ میں حضور نے اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی ترقی کے لئے اتنے کارنامے سرانجام دیئے اور ان کے اتنے عظیم الشان نتائج نکلے کہ اس مقالہ میں ان کو گنوا نا بھی ممکن نہ ہوگا۔لیکن میں یہاں پر آپ کے سنہری کارناموں میں سے صرف کچھ پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالنے کی کوشش کرتا ہوں۔فتنه انکار خلافت خلافت کے بابرکت منصب پر متمکن ہونے کے بعد سب سے پہلے آپ کو فتنہ انکار خلافت کا سامنا کرنا پڑا۔جسے حضور نے ہر لحاظ سے ناکام بنا دیا۔انتخاب خلافت کے ساتھ ہی منکرین خلافت نے تمام ابلاغ واشاعت کے ذرائع بروئے کارلاتے ہوئے سارے ہندوستان میں نظام خلافت کی تردید میں ایک خطرناک اور زہریلے