نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 265
۲۴۴ پروپیگنڈا کی مہم بڑی سرعت کے ساتھ شروع کر دی۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پروپیگنڈا کا یہ منصوبہ خفیہ طور پر حضرت خلیفہ اسیح الاول کی زندگی میں ہی تیار کر کے آپ کی وفات کے بعد پھیلا یا گیا کہ مرزا محمود احمد اور ان کے رفقاء نے اپنے ذاتی مفاداور اقتدار کی خاطر نظام خلافت کا یہ ڈھونگ رچایا ہے۔جبکہ حضرت مسیح موعود واضح طور پر صدرانجمن احمدیہ کو اپنا جانشین مقرر فرما گئے تھے نیز یہ بھی کہا گیا کہ ابھی سے ان لوگوں نے دین کو بگاڑنا شروع کر دیا ہے اور اگر اس (نعوذ باللہ ) غیر ذمہ دار، کچی عمر کے نوجوان کی قیادت کو جماعت احمدیہ نے قبول کر لیا تو دیکھتے ہی دیکھتے جماعت احمدیہ کا شیرازہ بکھر جائے گا اور قادیان پر عیسائیت قابض ہو جائے گی۔ان حالات کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خلافت پر متمکن ہوتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ بکثرت رسائل اور اشتہارات کے ذریعے جماعت پر اصل صورتحال واضح فرمائی اور منکرین خلافت کے ہر قسم کے اعتراضات کا مؤثر جواب دیا۔اس ضمن میں سب سے پہلے آپ کا اشتہار ”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے “بشدت ہماری توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ اشتہار جہاں ایک طرف آپ کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں اور واضح قوت استدلال سے روشناس کرواتا ہے وہاں آپ کے تو کل علی اللہ، عزم صمیم، یقین کامل اور خلوص قلب کی بھی روشن دلیل ہے جس کی طرف واضح طور پر پیشگوئی مصلح موعود میں ذکر ملتا ہے۔اشاعت احمدیت احمدیت دنیا میں اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کرنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے خلعت خلافت زیب تن کرنے کے بعد سب سے پہلے