نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 258
۲۳۷ انتخاب خلافت ثانیه جیسا کہ پہلے بھی لکھا جاچکا ہے۔حضرت خلیفہ اول مورخہ ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد دو پہر فوت ہوئے تھے۔وہ جماعت پر ایک بہت ہی نازک وقت تھا۔ایک طرف حضرت خلیفہ اول کی جدائی کا غم تھا اور دوسری طرف منکرین خلافت کے فتنہ کا خوف تھا جو ہر مخلص احمدی کو بیتاب کر رہا تھا۔اور وہ بیقراری کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھا۔نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک بہت درد سے بھری ہوئی تقریر فرمائی جس میں آپ نے فرمایا کہ دوستوں کو بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کی مددفرمائے اور صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔دوسرے دن خلافت کا انکار کرنے والوں کو سمجھانے کی ایک آخری کوشش کی گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے انہیں یہاں تک کہا کہ اگر خلافت سے انکار نہ کریں تو ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر وعدہ کرتے ہیں کہ اگر کثرت رائے سے آپ لوگوں میں سے کوئی خلیفہ منتخب ہو جائے تو ہم سچے دل سے اسے قبول کریں گے لیکن یہ لوگ اپنی ضد پر اڑے رہے۔مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں ہی ایک رسالہ چھاپ کر تیار کر رکھا تھا جسے حضور کی وفات ہوتے ہی کثرت سے جماعت میں تقسیم کر دیا گیا۔اس پرو پیگنڈا کی وجہ سے انہیں امید تھی کہ جماعت ان کی باتوں کو ضرور مان لے گی۔اس لئے وہ اپنی باتوں پر اڑے رہے۔آخر ۴ امارچ کو نماز عصر کے بعد سب احمدی جو دو ہزار کی تعداد میں دور و نزدیک سے آئے ہوئے تھے مسجد نور قادیان میں جمع ہوئے۔سب سے پہلے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الاول کی وصیت پڑھ کر سنائی۔جس میں آپ نے اپنا جانشین مقرر کرنے کی نصیحت فرمائی تھی۔وصیت