نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 257 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 257

۲۳۶ حضور زندہ رہے۔آپ کی زندگی کا ایک ایک دن اس امر کا گواہ ہے کہ آپ نے جو عہد کیا تھا اسے کس شان سے پورا کر دکھایا۔1911ء میں آپ نے حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے ایک انجمن انصار الله" کے نام سے قائم فرمائی اور اس کے ذریعے تبلیغ و تربیت کے کئی کام کئے۔۱۹۱۲ء میں آپ نے حج کیا۔۱۹۱۳ء میں اخبار ” الفضل“ جاری کیا۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں آپ نے کئی تبلیغی سفر بھی کئے۔جن میں آپ کی تقریروں کو لوگ خاص طور پر بہت پسند کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ ابھی بچہ ہی تھے لیکن حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے ابتدائی ایام میں ہی آپ نے جماعت میں پیدا ہونے والے اس فتنہ کے ابتدائی آثار کو بھانپ لیا تھا جو خلافت کے منکرین کی طرف سے بہت ہی آہستہ آہستہ ظاہر ہورہے تھے۔آپ کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ آپ کی باریک نظر نے آنے والے خطروں کو محسوس کر لیا اور معلوم کر لیا کہ یہ لوگ خلافت کے منکر ہو کہ احمدیت کی خصوصیات اور برکات کو تباہ کر دینا چاہتے ہیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ آپ کی ان لوگوں کی طرف سے سخت مخالفت کی گئی مگر آپ صحیح راستہ پر ڈٹے رہے۔آپ نے بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت اس فتنہ سے بڑی حد تک بچی رہی۔حالانکہ یہ فتنہ پیدا کرنے والے لوگ وہ تھے جو کہ جماعت میں ذی علم اور تجربہ کار سمجھے جاتے تھے۔وہ خود کو صدرانجمن کے ملک سمجھتے تھے اور حضور کو کل کا بچہ کہ کر پکارا کرتے تھے۔مگر دیکھنے والوں نے دیکھ لیا کہ بالآخر یہی کل کا بچہ کامیاب رہا۔