نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 254 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 254

۲۳۳ صاحبزادے تھے۔آپ کی ولادت با سعادت الہی بشارتوں کے مطابق ہوئی۔جو ہستی باری تعالی ، آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کی علامات میں سے ایک علامت یہ بتائی تھی کہ : يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ۔(مشکوۃ باب نزول عیسی ) یعنی وہ خدا تعالیٰ کی منشاء خاص سے ایک شادی کرے گا جس سے اس کے ہاں غیر معمولی خصوصیات کی حامل اولا د ہوگی۔اس حیثیت پاک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام مبشر اولاد بالعموم اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی بالخصوص مراد اور مصداق ہیں۔پھر آپ کا وجود اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا کرنے کا موجب بنا جو جماعت احمدیہ میں پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے مشہور ہے۔جو ہوشیا پور میں چالیس روز تک چلہ کشی کرنے کے نتیجہ میں آپ نے خدا تعالیٰ سے پاکر مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو اخبار ریاض ہند میں شائع فرمائی تھی۔جس میں آپ کے سوانح کا خاکہ آپ کی ولادت سے تین سال قبل اللہ جل شانہ نے اپنے ان الفاظ میں بیان فرما دیا تھا۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت اور غیوری نے اسے اپنے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔وہ سخت ذہین و فہم ہو گا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔دوشنبہ ہے مبارک دوشنبه فرزند دلبند گرامی ارجمند - مظهر الاول والآخر۔مظهر الحق