نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 255 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 255

۲۳۴ والعلا۔كان الله نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔وہ جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔66 وكان امر امقضياً “۔اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء بحوالہ اخبار ریاض ہند امرتسر مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے وجود میں یہ پیشگوئی اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔پیشگوئی میں جو جو علامتیں بتائی گئی تھیں ہم سب گواہ ہیں کہ وہ سب پوری ہو گئیں۔الحمد للہ حضرت مسیح موعود نے آپ کی پیدائش پر ایک اشتہار شائع کیا جس میں آپ کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہوئے حضور نے دس شرائط بیعت کا اعلان فرمایا اور پھر کچھ عرصہ بعد ۱۸۸۹ء میں ہی ہم مقام لدھیانہ پہلی بیعت کا آغاز کیا گیا۔گویا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی پیدائش اور جماعت احمدیہ کا آغاز ایک ہی وقت میں ہوئے۔جب حضرت خلیفہ ثانی تعلیم کی عمر کو پہنچے تو مقامی سکول میں آپ کو داخل کرا دیا گیا مگر طالب علمی کے زمانہ میں چونکہ آپ کی صحت خراب رہتی تھی اس لئے آپ کو تعلیم سے زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب دسویں جماعت کے امتحان تک پہنچے جو کہ اس زمانہ میں یو نیورسٹی کا پہلا امتحان تھا تو آپ فیل ہو گئے۔بس آپ نے سکول کی تعلیم یہاں تک حاصل کی۔تعلیم کے زمانہ میں جب آپ کے استاد حضرت مسیح موعود سے آپ کی تعلیمی حالت کا ذکر کرتے تو حضور فرمایا کرتے تھے کہ اس کی صحت اچھی