نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 228 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 228

۲۰۷ اور پہلوؤں پر غور کرنے کے لئے لندن میں ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی۔اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ حضور کی خدمت میں پیش کی۔اس کے بعد پاکستان اور بیرون پاکستان بعض اور صاحب الرائے احباب سے مشورہ لیا گیا۔بعض اور تجاویز پر غور کرنے کے لئے حضور نے ناظر صاحب اعلیٰ صدرانجمن کو ہدایت فرمائی کہ ممبران صدرانجمن احمدیہ پاکستان تحریک جدید انجمن احمد یہ پاکستان اور مجلس وقف جدید پاکستان اور بعض امراء اور صاحب الرائے احمدیوں پر مشتمل ایک مجلس شوری برائے انتخاب خلافت کا اجلاس منعقد کیا جائے۔چنانچہ یہ اجلاس ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو پاکستان میں منعقد ہوا۔اور اس مشاورت کی شفارشات حضرت خلیفہ المسیح الرابع کی خدمت میں بجھوائی گئیں۔متذکرہ بالا طریق پر غور وفکر اور مشوروں اور دعاؤں کے بعد ۱۹۵۷ء کے منظور شدہ قوانین میں مندرجہ ذیل ترامیم منظور کی گئیں۔ممبران مجلس انتخاب خلافت میں وکلاء تحریک جدید کے علاوہ ممبران تحریک جدید، دممبران وقف جدید کو بھی شامل کیا گیا۔۱۹۵۷ء میں یہ قاعدہ بنا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے اولین صحابہ یعنی وہ جن کا ذکر حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۱ء سے پہلے کی کتب میں فرمایا ہے وہ اگر فوت ہو چکے ہوں تو ان کا بڑا لڑکا اس مجلس کا ممبر ہوگا بشرطیکہ وہ جماعت احمد یہ مبائعین میں شامل ہو۔ان ناموں کا اعلان صدرانجمن احمد یہ کرے گی۔اس قاعدہ میں اب یہ ترمیم کی گئی کہ صدر انجمن احمد یہ ان ناموں کا اعلان حضرت خلیفتہ المسیح کی منظوری سے کرے گی۔۱۹۵۷ء میں بننے والے قوانین میں جو مر بیان اور مبلغین شامل کئے گئے تھے اس میں یہ ترمیم کی گئی کہ مبلغین اور مربیان کی اس قدر تعداد جو مجلس انتخاب کی کل تعداد کا پچیس فیصد ہو مجلس انتخاب کے رکن ہوں گے۔اس غرض کے لئے صدر انجمن احمدیہ