نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 227
اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دوں گا جو جماعت مبائعین سے خارج کیا گیا ہو یا اس کا تعلق احمدیت یا خلافت احمدیہ کے مخالفین سے ثابت ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اور حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے انتخابات مذکورہ بالا قواعد کی روشنی میں ہی ہوئے۔جبکہ ۱۹۸۴ء میں پاکستان کے مخصوصی جماعتی حالات کے پیش نظر خلافت احمد یہ لندن برطانیہ منتقل ہوگئی۔تو حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے مخصوص حالات کے پیش نظر ان قواعد میں بعض تبدیلیاں فرما ئیں اور آئندہ خلیفہ وقت کے انتخاب کے لئے بعض مزید ہدایات وضع فرمائیں۔جن کی روشنی میں خلافت خامسہ کا انتخاب عمل میں آیا۔ہیں:۔موجودہ قواعد انتخاب خلافت مذکورہ بالا قواعد میں ترمیمات کے بعد موجودہ قواعد انتخاب خلاف ۱۹۸۴ء میں جب حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمداللہ کو ہجرت کر کے لندن جانا پڑا اس وقت حکومت پاکستان نے جماعت احمدیہ کے خلاف ایسے حالات پیدا کر دئیے تھے کہ یہ خطرہ پیدا ہوا کہ اگر ان حالات میں انتخاب خلافت کا وقت آجائے تو مخالف احمدیت عناصر اس کا رروائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے ارشاد پر انتخاب خلافت کا ادارہ پاکستان سے باہر منتقل کر دینے کی عملی شکل کے بارہ میں مشورہ پیش کرنے کے لئے لاہور میں ایک خصوصی مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا گیا۔ی مجلس شوری اسی مسئلہ پر غور کرنے کے لئے بلائی گئی تھی۔اس مجلس شوری کی رپورٹ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کی گئی۔اس پر حضور نے بعض