نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 226 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 226

۲۰۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کی تعداد اتنی قلیل رہ جاتی ہے کہ منتخب شدہ ممبروں کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی۔ہاں خلیفہ وقت کا انتخاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد اور جماعت کے ایسے مخلصین میں سے ہو سکے گا جو مبائعین ہوں اور جن کا کوئی تعلق غیر مبائعین یا احرار وغیرہ دشمنان سلسلہ احمدیہ سے نہ ہو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس وقت تک ایسے مخلصین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے ) بنیادی قانون ضروری نوٹ:۔سید نا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز نے آئندہ کے لئے انتخاب خلافت کے لئے مذکورہ بالا اراکین اور قواعد کی منظوری کے ساتھ بطور بنیادی قانون کے فیصلہ فرمایا ہے کہ:۔آئندہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہی قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوری میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوری کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔مجلس علماء کی یہ تجویز درست ہے مجلس علماء سلسلہ احمدیہ ( دستخط ) مرزا محموداحمدخلیفہ السیح الثانی ۱۸-۳-۵۷ ۲۰_۳۵۷ مجلس انتخاب خلافت کا ہر رکن انتخاب سے پہلے یہ حلف اٹھاتا ہے:۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کا قائل ہوں