نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 225
۲۰۴ د۔اگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی میں نئے خلیفہ کے انتخاب کا سوال اٹھے تو مجلس انتخاب خلافت کے اجلاس کے وہ پریذیڈنٹ ہوں گے۔ورنہ صدرانجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے اس وقت کے سینیئر ناظر یا وکیل اجلاس کے پریذیڈنٹ ہوں گے۔(ضروری ہے کہ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید فوری طور پر مشتر کہ اجلاس کر کے ناظروں اور وکلاء کی سینیارٹی فہرست مرتب کرلے ) ه مجلس انتخاب خلافت کا ہر رکن انتخاب سے پہلے یہ حلف اٹھائے گا کہ:۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ کا قائل ہوں اور کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دوں گا جو جماعت مبائعین میں سے خارج کیا گیا ہو یا اس کا تعلق احمدیت یا خلافت احمدیہ کے مخالفین سے ثابت ہو“۔جب خلافت کا انتخاب عمل میں آجائے تو منتخب شدہ خلیفہ کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ لوگوں سے بیعت لینے سے پہلے کھڑے ہو کر قسم کھائے کہ :۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں خلافت احمدیہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان لوگوں کو جو خلافت احمدیہ کے خلاف ہیں باطل پر سمجھتا ہوں اور میں خلافت احمدیہ کو قیامت تک جاری رکھنے کی پوری کوشش کروں گا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرتا رہوں گا اور میں ہر غریب اور امیر احمدی کے حقوق کا خیال رکھوں گا اور قرآن شریف اور حدیث کے علوم کی ترویج کے لئے جماعت کے مردوں اور عورتوں میں ذاتی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوشاں رہوں گا۔ز۔اوپر کے قواعد کے مطابق صحابہ اور نمائندگان جماعت جن میں امراء اضلاع سابق و حال بھی شامل ہیں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہو جائے گی۔ان میں خاندان