نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 221 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 221

۲۰۰ (۱۰) ذوالفقار علی خاں صاحب۔اگر بیرونی لوگ شامل نہ ہوسکیں تو پھر یہیں کے لوگ فیصلہ کریں۔خلیفہ وہی شخص ہوسکتا ہے جو قادیان میں رہے جو خود نمازیں پڑھائے۔یہ ضروری ہدایت یاد رکھی جائے کہ یہ لوگ اس بات کا اختیار رکھیں گے کہ اپنے میں سے کسی شخص کو انتخاب کریں یا کسی ایسے شخص کو جس کا نام فہرست میں شامل نہیں ایک نام اس میں اور زیادہ کر دیا جاوے۔میاں بشیر احمد صاحب بھی اس میں شامل ہیں۔والسلام۔اگر صدر جلسہ خود خلیفہ تجویز ہو تو جو الفاظ خلیفہ کی بیعت کے لئے رکھے گئے ہیں ان کا وہ خود حلفیہ طور پر مجلس میں اقرار کرے۔خدا کے فضلوں کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔خلیفہ خدا بنا تا ہے۔پس اس شخص کو جس کے لئے لوگ متفق ہوں خلافت سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ہاں مشورہ دینے والوں کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایسے شخص کو منتخب کریں کہ وہ قادیان کا ہی ہو کر رہ سکے اور جماعت کر سکتا ہو۔والسلام واخر دھونا ان الحمد للہ رب العالمین ( دستخط ) خاکسار مرزا محموداحمد دستخط خاکسار شیر علی عفی عنہ بقلم خود کا تب تحریر ہذا۔۱۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔دستخط فتح محمد سیال بقلم خود۔دستخط خاکسار مرزا بشیر احمد بقلم خود ۱۹۱۰/۱۸ - دستخط محمد سرور شاہ بقلم خود ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۸ء۔دستخط خلیفہ رشید الدین ایل۔ایم۔ایس بقلم خود ۱۹ را کتوبر ۱۹۱۸ء۔(نوٹ ) یہ کاغذ مولوی شیر علی صاحب کی تحویل میں رکھا جاوے اور اس کی نقل فوراً شائع کر دی جاوے۔(دستخط ) مرزا محمود احمد“۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں دوسرے ہی روز یہ وصیت دفتر ترقی اسلام کے میگزین پریس قادیان سے شائع کر دی گئی۔اس کے بعد دسمبر ۱۹۵۶ء میں حضور نے دوبارہ فتنہ خلافت کے پیش نظر مذکورہ بالا