نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 220 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 220

۱۹۹ احساسات کا اگر اس کے فرائض کے رستہ میں روک نہ ہوں احترام کرے۔میری اپنی بیبیوں اور بچوں کے متعلق اس شخص کو یہ وصیت ہے کہ وہ قرضہ حسنہ کے طور پر ان کے خرچ کا انتظام کرے جو میری نرینہ اولادانشاء اللہ تعالیٰ ادا کرے گی۔بصورت عدم ادائیگی میری جائیداد اس کی کفیل ہو ان کو خرچ مناسب دیا جائے عورتوں کو اس وقت تک خرچ دیا جائے جب تک وہ اپنی شادی کر لیں بچوں کو اس وقت تک جبکہ وہ اپنے کام کے قابل ہو جائیں۔اور بچوں کو دنیوی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جاوے کہ وہ آزاد پیشہ ہوکر خدمت دین کر سکیں۔جہاں تک ہو سکے لڑکوں کوحفظ قرآن کرایا جاوے۔باقی حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ امسیح الاول کی وصیتیں میں پھر اس شخص کو اور جماعت کو یاد دلاتا ہوں۔جو کام حضرت مسیح موعود نے جاری کئے ہیں کسی صورت میں ان کو بند نہ کیا جاوے ہاں ان کی صورتوں میں کچھ تغیر ہوتو ضرورتوں کے مطابق خلیفہ کو اختیار ہے اس قسم کا انتظام آئندہ انتخاب خلفاء کے لئے بھی وہ شخص کر دے۔اللہ تعالیٰ اس شخص کا حافظ حامی اور ناصر ہواس شخص کو چاہئے کہ اگر وہ دین کی ظاہری تعلیم سے واقف نہیں تو اس کو حاصل کرے دعاؤں پر بہت زور دے ہر بات کرتے وقت پہلے سوچ لے کہ آخر انجام کیا ہو گا؟ کسی کا غصہ دل میں نہ رکھے خواہ کسی سے کسی قدر ہی اس کو ناراضگی ہو۔اس کی خدمات کو کبھی نہ بھلائے۔ان لوگوں کے اسماء جن کو میں خلیفہ کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے مقرر کرتا ہوں۔یہ ہیں:۔(۱) نواب محمد علی خان صاحب۔(۲) ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب۔(۳) مولوی شیر علی صاحب۔(۴) مولوی سید سرور شاہ صاحب۔(۵) قاضی سید امیرحسین صاحب۔(۶) چوہدری فتح محمد صاحب سیال۔(۷) حافظ روشن علی صاحب۔(۸) سید حامد شاہ صاحب۔(۹)میاں چراغ دین صاحب۔