نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 218
۱۹۷ اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم رسول الكريم نحمده ونصلى على خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ میں مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر ایسی حالت میں کہ دنیا اپنی سب خوبصورتیوں سمیت میرے سامنے سے ہٹ گئی ہے بقائمی ہوش و حواس رو بروان پانچ گواہوں کے جن کے نام اس تحریر کے آخر میں ہیں اور جن میں سے ایک خود اس تحریر کا کا تب ہے جماعت احمدیہ کی بہتری اور اس کی بہبودی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اگر میں اس کا غذ کی تحریر کو اپنی حین حیات میں منسوخ نہ کروں تو میری وفات کی صورت میں وہ لوگ جن کے نام اس جگہ تحریر کرتا ہوں ایک جگہ پر جمع ہوں جن کے صدر اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب ہوں گے اور اگر کسی وجہ سے وہ شامل نہ ہو سکیں ( گواگر جد امکان میں ہو تو میر احکم ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں ) تو پھر یہ جمع ہونے والے لوگ آپس کے مشورے سے کسی شخص کو صدر مقرر کریں پہلے صدر جلسہ سب کے روبرو بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھ کر خدا کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس معاملہ میں رائے دے گا اور کسی قسم کی نفسانیت کو اس میں دخل نہ دے گا۔پھر وہ ہر ایک نامزد شدہ سے اس قسم کی قسم لے اور سب لوگ صدر جلسہ سمیت اس بات پر حلف اٹھائیں کہ وہ اس معاملہ کے بعد یہ سب لوگ فردا فردا اس بات کا مشورہ دیں کہ جماعت میں سے کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کی جاوے تاکہ وہ جماعت کے لئے خلیفہ اور امیر المومنین ہو صدر جلسہ اس بات کی کوشش کرے کہ سب ممبروں کی رائے ایک ہو۔اگر یہ صورت نہ ہو سکے تو