نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 217
١٩٦ چھ رکنی کمیٹی نے مل کر کیا جسے حضرت عمر نے اپنی زندگی میں مقرر کر دیا تھا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علی کا انتخاب صحابہ کی ایک بھاری اکثریت کے اتفاق سے عمل میں آیا۔پس خلفاء راشدین کے انتخاب میں کوئی ایک طریق انتخاب نظر نہیں آتا۔اس لئے انتخاب خلافت کے لئے حسب حالات کوئی مناسب طریق اپنایا جاسکتا ہے اور حسب ضرورت پہلے کے مقررہ قواعد وضوابط میں تبدیلی اور کمی و بیشی ممکن ہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے بعد قائم ہونے والی خلافت راشدہ میں بھی انتخاب خلافت کے قواعد وضوابط میں حسب حالات تبدیلیاں ہوتی رہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کا انتخاب تو تمام جماعت کے متفقہ رائے اور مشورہ سے عمل میں آیا۔مگر خلافت ثانیہ کے انتخاب کے وقت بعض افراد نے نظام خلافت کے تعلق میں اختلاف کیا۔مگر جماعت کی بھاری اکثریت نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی کو خلیفہ تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر لی۔نظام خلافت کے حوالے سے بعض غیر مبائعین کے اختلاف اور بالخصوص حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ذات کے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کے پیش نظر اپنی علالت کے دوران حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۱۸ء میں اپنے بعد انتخاب خلافت کے لئے درج ذیل ہدایات ارشاد فرمائیں۔حضرت امیر المومنین پر آخر ۱۹۱۸ء انفلوئنزا کا اتنا شدید حملہ ہوا کہ حضور نے ۱۹ اکتو بر ۱۹۱۸ء کو وصیت بھی لکھ دی جس میں اپنے بعد انتخاب خلیفہ کے لئے گیارہ افراد پرمشتمل ایک کمیٹی نامز دفرما دی۔اس اہم وصیت کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔