نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 216
۱۹۵ جماعت احمدیہ میں خلیفہ کے انتخاب کا طریق انتخاب خلافت کے طریق سے متعلق سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کی ، ضرورت ہے کہ جیسا کہ دوسرے دنیاوی امور میں اسلام کا طریق ہے اس معاملہ میں بھی اسلام نے صرف ایک اصولی تعلیم دی ہے اور تفصیلات کے تصفیہ کو ہر زمانہ اور ہر ملک اور ہر قوم کے حالات پر چھوڑ دیا ہے اور دراصل اس قسم کے معاملات میں یہی طریق عظمندی اور میانہ روی کا طریق ہے کہ صرف اصولی ہدایت پر اکتفاء کی جاوے اور تفصیلات میں دخل نہ دیا جاوے۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہو اور حالات کے اختلاف کا لحاظ رکھنے کے بغیر ہر زمانہ میں ہر قوم پر ایک ہی ٹھوس غیر مبدل اور تفصیلی قانون جاری کر دیا جاوے تو ظاہر ہے کہ قانون شریعت رحمت کی بجائے ایک زحمت ہو جاوے۔اور ہدایت کی بجائے ضلالت کا سامان پیدا کر دے۔پس اسلام نے کمال دانشمندی کے ساتھ اس معاملہ میں صرف اصولی ہدایت دی ہے جو تفصیلات کے مناسب اختلاف کے ساتھ ہر قسم کے حالات پر یکساں چسپاں ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد قائم ہونے والی خلافت راشدہ میں حسب حالات اور حسب موقع انتخاب کے مختلف طریق اختیار کئے گئے۔حضرت ابوبکر کا انتخاب تھوڑے اختلاف اور بحث و تمیص کے بعد انصار ومہاجرین نے متفقہ طور پر کیا۔(بخاری و مسلم وغيره عن ابن عمر بحواله تلخيص باب فی ذکر خلفاء الراشدين) اور حضرت عمر کا انتخاب حضرت ابو بکر نے اپنی زندگی میں ہی صحابہ کبار کے مشورہ سے اپنی زندگی میں ہی بطور نامزدگی کر دیا تھا۔پھر حضرت عثمان کا انتخاب صحابہ کی ایک