نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 210 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 210

۱۸۹ آنحضرت ﷺ کی مذکورہ بالا پیشگوئی کے مطابق خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں فرمایا:۔چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو کہ تمام دنیا کے ۸ وجودوں سے اشراف واولی ہیں، ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تاد نیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہر ہے۔شہادت القرآن روحانی خزائن جلد ۶ ص ۳۵۳) جب ۱۹۰۵ء کے آخر میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو قَرُبَ أَجَلُكَ الْمُقَدَّر یعنی تیری وفات کا وقت قریب آگیا ہے کا الہام ہوا۔تو آپ نے ساری جماعت کو بطور وصیت فرمایا:۔سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائی